بلاگخاصنئون

چیف جسٹس کے نام کھلا خط

سندھو ندی پر کوئی بھی ڈیم نهيں چاهيے

محترم چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب!

جئے سندھ!

ہو سکتا ہے کہ جئے سندھ کے الفاظ پڑھتے ہی آپ تھوڑے حیران اور پریشان ہو جائیں کہ مخاطب ہونے کا یہ کیسا انداز ہے. لیکن جو لوگ اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں، وہ وطن کی سلامتی کو ہی اپنی سلامتی سمجھتے ہیں اور ان کے لیے ہر جلترنگ سے مدھر اور دلپذير سر وطن کے نام سے پیدا ہوتے ہیں.

اس کے ساتھ اک اور اہم بات بھی ہے. وہ یہ کہ آپ کو آگاہ کیا جائے کہ اس کرہء ارض پر ایک تاریخی ملک اور وطن سندھ بھی ہے، جس نے خود مختاری اور اپنے ریاستی وجود کی برقراری کی شرائط پر اس مملکت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا، جس مملکت کے آپ چيف جستس هين.

مجھے نہیں معلوم کہ آپ کالاباغ ڈیم کی حمایت میں مہم چلانے کے رمارکس دیتے ہوئے کتنے خوش تھے؟ البتہ اس ضمن میں آپ کا جوش خروش قابل دید ہے، جو کالاباغ ڈیم کے معاملے پر کسی معزز جج کی بجائے واپڈا کے عملداروں کا طرہء امتیاز رہا ہے.

معزز چیف جسٹس! جس وقت آپ انصاف کی کرسی پر براجمان ہو کر کسی نوخیز محبوب کی طرح اِتراتے ہوئے کالاباغ ڈیم کی حمایت میں باتیں کر رہے تھے، عین اسی وقت سندھ ایک اور دکھ میں سوگوار تھی. سندھ کے ایک ذہین، باصلاحیت اور متحرک سیاستدان، ادیب اور عالم جناب رسول بخش پلیجو کل انتقال کر گئے تھے. سندھ اس درد میں دکھی تھی، نڈھال تھی اور رو رہی تھی. سندھ کے لوگوں کی اجلی آنکھوں میں آنسو تھے. درد کی ان کیفیتوں اور ساعتوں میں عدالت کے اندر آپ کی زبان مبارک سے جن موتیوں کی بارش ہوئی، وہ دکھ اور درد کو مزید ہرا کر گئی. آپ کے ان الفاظ نے اک بار پھر پاکستان کی عدالتی تاریخ کو لوگوں کی درد بھری آنکھوں کے سامنے لا کر کھڑا کردیا. جسٹس منیر کے نظریہءِ ضرورت سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی  تک. حکومتوں اور اسیمبلیوں کو توڑنے والے قدموں کے خلاف بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی اپیلوں پر اک دوسرے کے متضاد فیصلے. پرویز مشرف کے آرڈیننس پر ججوں کے حلف نامے اور آمر کے ہاتھ پر بیعت. ایسی تو کئی داستانیں ہوں گی، لیکن میں ان میں پڑنا نہیں چاہتا. میں سیدھا آپ کی باتوں پر آنا چاہتا ہوں.

دنیا میں بہت قسم کے لوگ موجود ہیں. پاکستان میں بھی ایسا ہی ہے. لیکن اسے بدقسمتی کہیں یا معاشرے کی تعمیر میں غلط اینٹیں لگانے کا نتیجہ کہ پاکستان میں کرائے پر ملنے والے لوگوں کی بڑی بہتات ہے. یہاں کسی بھی غلط کام کے لیے لوگ کرائے پر دستیاب ہیں. دیکھا جائے تو یہ سلسلہ بھی کافی پرانا ہے. ایسے لوگ ماضی تا حال دوسروں کے لیے ہتھیار بھی اٹھاتے ہیں اور قلم بھی. ان ہی اقسام کے لوگ آج کل کورٹوں سے بھی رجوع کرتے ہیں. کسی کی بھی جانب سے وہ عدالت میں درخواست دائر کر دیتے ہیں. ایسے لوگ دوسرے لوگوں کو سانس تک اٹھانے نہیں دیتے اور ہر چیز میں ٹانگ اڑاتے پھرتے ہیں. سیاسی معاملات میں بھی اس قسم کے لوگ دوسروں کے اشاروں پر ناچتے ہیں. ایسے ہی انداز میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے لیے آپ کی عدالت سے رجوع کیا گیا ہے.

قابل احترام چیف جستس صاحب!

مجھے فیض احمد فیض یاد آ رہے ہیں. یہ بھی کتنی اعلیٰ بات ہے کہ سندھ پنجاب کے وردی والوں سے تو شدید نفرت کرتی ہے، لیکن پنجاب کے اردو خواہ پنجابی شاعروں سے بہت محبت کرتی ہے. سرائیکی شاعر تو سندھ کے وجود کا حصہ ہیں. پنجاب کے شاعروں میں بابا بلے شاہ کے بعد فیض سندھ میں سب سے زیادہ پڑہے جاتے ہیں. ان درخواستوں پر آپ کے اقدام کے حوالے سے مجھے فیض صاحب یاد آ رہے ہیں.ان کا ایک شعر ہے:

نگاہِ شوق سرِ بزم بے حجاب نہ ہو،

وہ بے خبر ہی سہی، پر اتنے بے خبر بھی نہیں!

عام تاثر یہ ہے کہ ہر چیف جسٹس اپنے ملک کے سیاسی تضادات، معاشی حالات اور مختلف بڑے مسائل سے باخبر ہوتا ہے. اس لیے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کالا باغ ڈیم کے معاملے پر آپ باخبری کا مظاہرہ کرتے اور اسے تکراری معاملہ کہه کر درخواستیں خارج کر دیتے.

لیکن باخبر ہونے سے بھی ایک اور زیادہ بڑی بات ہے. وہ ہے انصاف کا سر اونچا رکھنا. مجھے دکھ اور افسوس سے کہنے ديجيے کہ آپ کے رمارکس کے سامنے انصاف کسی ہارے ہوئے مسافر کی طرح سر نگوں کیے کھڑا ہوا ہے.

حقیقت یہ ہے کہ آپ اتنے بے خبر بھی نہیں ہیں کہ پنجاب کالاباغ ڈیم کے معاملے پر اپنا مقدمہ اسیمبلیوں اور گلیوں میں پہلے سے ہی ہارا ہوا ہے. پنجاب اور وفاق کے نمائندے سیاسی اور فنی روءَ سے ہار چکے ہیں اور نئے ڈیموں کے لیے پانی کی دستیابی کے متعلق ان کے دیے گئے اعداد و شمار غلط ثابت ہو چکے ہیں. اس کے باوجود ہٹ دھرمی، ضد اور جھوٹ سے وہ باز نہیں آتے.

اور اب آپ کا سہارا لینے کی کوشش کی گئی ہے.

ہم حیران ہیں کہ آپ جو انصاف کے سب سے بڑے مسند پر بیٹھے ہوئے ہیں، آپ کے دل میں بھی ایک شاونسٹ پنجابی چھپا ہوا ہے. آپ تو کالا باغ ڈیم کے لیے خود نکل کر مہم چلانے کی بات کر رہے ہیں. یہاں کے سیاستدان کبھی کبھی عجیب دعوے کرتے ہیں. کسی کے روح میں ذوالفقار علی بھٹو کی روح، تو کسی کے اندر میں جنرل ضیاءَ الحق کی روح سرایت کر جاتی ہے. روحیں نہیں ہوئیں، بھوت ہوئے، جو بیچارے لوگون کو جکڑ لیتے ہیں. معاف کرنا، بڑے احترام سے کہہ رہا ہوں کہ شاید پرویز مشرف زندہ ہوتے ہوئے بھی بے روح آدمی بن گئے ہیں اور اس کی روح آپ میں آ کر سمائی ہے. کالا باغ ڈیم کے لیے سب سے بڑے جوش خروش میں جنرل مشرف مہم چلانے نکلے تھے. اس سلسلے میں وہ سب سے پہلے بدین آئے تھے.

اور بدین سنسان پڑا تھا. دکانیں بند تھیں، شہر ویران تھا، گلیوں میں صرف کتے، گدھے اور اہلکار تھے. شہریوں نے شٹربند ہڑتال کر دی تھی.

مشرف ڈیم کی مہم کے سلسلے میں مہران یونیورسٹی جامشورو بھی گئے. وہاں کرفیو کا سماں تھا. صرف چیدہ چیدہ لوگ جمع کیے گئے تھے. جن کو خاموشی سے جنرل کا خطاب سننا تھا.

جنرل خطاب کر رہے تھے. بڑے اکڑے ہوئے انداز میں بات کی انہوں نے. ایسا انداز جو صرف فوجیوں کا خاصہ ہوتا ہے. اچانک ایک طالبعلم اٹھ کھڑے ہوئے اور کالاباغ ڈیم کے نقصانات پر بات کرنے لگے. مشرف کے پاس کوئی جواب نہیں تھا. اسے روسٹرم چھوڑ کر جانا پڑا.

وه دن يه دن، مشرف چاهتے هوئے بهي  پھر کبھی ڈیم کی حمایت میں مهم چلانے نہیں نکلے.

اب آپ تشریف فرما ہونے کی باتیں کر رہے ہیں.

اور آپ تو مشرف سے بھی دو قدم آگے بڑہ کر ہیں. آپ کالاباغ ڈیم کے.لیے چندہ بھی کرنے کے لیے تیار ہیں!

آپ کالاباغ ڈیم کی حمایت میں سیمینار اور ورکشاپ بھی کرانا چاہتے ہیں.

آپ کہتے ہیں کہ پانی زندگی ہے، زندگی ختم ہو رہی ہے. اربوں روپے کا پانی سمندر میں جا کر ضایع ہو رہا ہے.

آپ کہتے ہیں کہ میں صوبوں کے درمیان تکرار نہیں چاہتا، البتہ ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہوں.

عالی جناب!

آپ کی ان باتوں پر آنے سے پہلے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ دو باتوں کی طرف آپ کی توجہ مبذول کراؤں.

ایک یہ کہ آپ سے زیادہ سمجھداری کا مظاہرہ اعتزاز احسن نے کیا ہے، جو آپ کے سامنے کہ رہا ہے کہ کالاباغ ڈیم پر سندھ اور خینرپختونخوا کے خدشات جائز ہیں اور یہ ایک تکراری منصوبہ ہے.

دوسری بات یہ ہے کہ آپ نے کہا ہے کہ میں نے تھوڑی دیر پہلے شمس الملک سے بات چیت کی ہے. آپ کو اچھی طرح معلوم ہوگا کہ شمس الملک واپڈا کے چیئرمین رہے ہیں اور کالاباغ ڈیم کے بڑے حامی ہونے کی وجہ سے تکراری آدمی ہیں. وہ پاگل پن کی حد تک کالاباغ ڈیم کی حمایت کرتا رہا ہے. اس سے آپ کی ملاقات اور مشاورت پر مجھے فارسی شاعر عطار یاد آ گیا ہے. اس کا ایک شعر ہے:

عجب بات ہے “عطار” کہ جس لونڈے کی باعث بیمار پڑے ہو، علاج کے لیے بھی اسی کے پاس جاتے ہو!”

کالاباغ ڈیم پر مشورہ اور وہ بھی شمس الملک سے! یہ سیاسی منشا اور انداز نہیں ہے تو اور کیا ہے؟

اب آپ کی باتوں پر آتے ہیں. جہاں تک ورکشاپوں اور سیمیناروں کا تعلق ہے، تو وہ ضرور ہونے چاہییں، لیکن کالاباغ ڈیم کی بجائے قانون اور عدالتی نظام میں موجود موشگافیوں اور خامیوں پر ہونے چاہییں. ورکشاپ اور سیمینار اس بات پر بھی ہونے چاہییں کہ سنده اور بلوچستان سميت پاکستان میں جبری گمشدگیوں کو کیسے روکا جائے. آپ سے زیادہ کون جان سکتا ہے کہ جبری گمشدگی قانون، آئین اور انسانی حقوق کی سب سے بڑی خلاف ورزی ہے. ایک چیف جسٹس کی حیثیت میں آپ کو قانون کی بالادستی کے لیے اور انصاف کیلیے کام کرنا چاہیے. آپ کو عدالتوں کے استحقاق کے لیے بھی اسٹینڈ لینے کی ضرورت ہے. سیکیورٹی اداروں کے اہلکار اعلیٰ عدالتوں میں پیش ہو کر جھوٹ بولتے ہیں اور عدالتوں کی آنکھوں میں دھول ڈالتے ہیں کہ گمشدہ لوگ ہمارے پاس نہیں ہیں. کیا یہ بات عدالت کی توہین اور انصاف کے قتل کے برابر نہیں ہے!؟

جناب اعلیٰ!

آپ کہتے ہو کہ پانی سمندر میں جا کر ضایع ہو رہا ہے؟ معاف کیجیے گا، مجھے لگتا ہے کہ آپ ماحولیات کے علم سے واقف نہیں ہیں. جس طرح ایک سائنسدان قانون کے موٹے موٹے اصطلاحات کی تشریح نہیں کر سکتا، بلکل اسی طرح آپ کو بھی شاید پتہ نہیں ہے که ایکالاجی کیا ہے اور ایکو سسٹم (Echo System) کس چیز کو کہتے ہیں؟ پاکستان کی بیوروکریسی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ صرف اپنے معاشی مفادات کو دیکھتی ہے اور پنجاب کے مفادات کو ہی پاکستان کا مفاد سمجھتی ہے. اس لیے اسے دوسرے لوگ نظر نہیں آتے.

بڑے افسوس کی بات ہے کہ آپ کو بھی زندگی صرف پنجاب کی شکل صورت میں نظر آتی ہے.

آپ چیف جسٹس ہیں، صرف پنجاب کے نہیں، پنجاب سمیت پاکستان میں شامل سب قوموں سندھ، بلوچستان اور پختونخوا کے بھی چیف جسٹس ہیں. لیکن افسوس صد افسوس کہ آپ کو دوسری قومیں نظر نہیں آتیں. آپ کو نوشہرہ کے لوگ نظر نہیں آتے، جن کو کالاباغ ڈیم کے نتیجے میں ڈوب کر مر جانے یا دربدر و بے گھر ہونے کا خطرہ ہے. آپ کو شاید یہ بھی نہیں معلوم کہ کوٹڑی بئراج کی ڈاؤن اسٹریم میں پچاس لاکھ سے زیادہ لوگ بستے ہیں. جن کی گذر معاش اور زندگی کا دارومدار زراعت اور سندھو ندی کی ڈائون اسٹریم میں موجود بہتے پانی پر ہے.

آپ کو بہت کچھ معلوم نہیں ہے، گستاخی معاف کرنا، میں آپ کو بتاتا ہوں. پاکستان بننے سے پہلے کیٹی بندر، کھارو چھان، شاھبندر اور دوسرے ساحلی علاقوں کے لوگ خوشحال ہوا کرتے تھے. سندھ کے بندرگاہوں سے چاولوں کی کئی اقسام کی جنسیں بیرون ملک برآمد ہوا کرتی تھیں. کراچی میونسپلٹی کیٹی بندر اور کھارو چھان ٹاؤن کمیٹیوں سے بوقت ضرورت قرضه لیا کرتی تھی. یہ وہ دن تھے جب سندھو سوئا گانءِ کی طرح مست و رقصاں دوڑتی آتی تھی. تب کھاروچھان اور کیٹی بندر سے لے کر سارے ساحل سمندر پر زندگی ستاروں کی مانند مسکراتی تھی اور لوگ خوشحال اور شاد و آباد تھے، ان کے چہروں پر خوشیاں چاند کی طرح چمکتی دمکتی تھیں. تب سندھو دریاھ پر پبجاب میں کوئی ڈیم نہیں تھا. جب سے پنجاب میں سندھو ندی کے سرکش بدن پر ڈیموں، بئراجوں اور لنک کئنالوں کی زنجیریں ڈالی گئی ہیں، ساحلی علاقوں کی خوشحالی ختم ہوگئی، زراعت تباہ اور کاروبار بند ہوگئے اور مسکراتی ہوئی زندگی پانی کی قلت اور سوکہڑے کے طوفانوں میں اڑ گئی. اب پاکستان شاد آباد ہے، ليکن کيٹي بندر اور ساحلي علاقون مين خوشي اور زندگي نہيں ہے. اب وہاں ویرانی ہے، بدحالی ہے اور درد کی دنیا ہے، جس کے مداوے کا کسی کو بھی فکر نہیں ہے.

دنیا پر طائرانہ نگاہ پھیرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ساحل سمندر کے قریب رہنے والے لوگ خوشحال اور امیر ہوتے ہیں. لیکن سندھ اور بلوچستان کے لوگ غریب اور بدحال ہیں. اور ان کی بدحالی کا کارن ریاستی پالیسیاں ہیں. ہمارے لوگوں کو نہ صرف نظرانداز کیا گیا ہے، بلکہ ان کے مفادات اور حقوق کو بڑی بیدردی سے نقصان پہنچایا گیا ہے. کالاباغ ڈیم سے ساحل سمندر کے سارے علاقے میں بسنے والے سب لوگ مزید تباہ و برباد ہو جائیں گے اور وہان زندگی ناموجود و ناپید ہو جائے گی.

یہی نہیں کہ انسانوں کا وہاں رہنا محال ہو گیا ہے، بلکہ ساری مخلوق مشکل حالات میں گھر گئی ہے. آبی جیوت کے کئی اقسام ختم ہونے کے قریب ہیں. پنچھی اور جنگلی جیوت ختم ہو رہی ہے. یہی نہیں تمر کے جنگل تباہ ہو رہے ہیں. سندھو ندی کا ڈیلٹائی علاقہ اپنی وسعت میں دنیا کا ساتواں بڑا ڈیلٹا ہے، جو دریا میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے روز بروز گھٹتا جا رہا ہے. یہ سب پنجاب کی مہربانی ہے. لیکن آپ کو تو کچھ معلوم ہی نہیں.

جناب! آپ جس عمل کو پانی کا زیاع کہہ رہے ہیں، وہ ایکو سسٹم کی ضرورت ہے. پانی کے ماہرین کہتے ہیں کہ ڈیلٹا کو بچانے کے لیے کم سے کم بارہ ہزار (۱۲۰۰۰) کیوسک پانی کا سمندر میں مسلسل جانا انتہائی لازمی ہے. یہ بات ۱۹۹۱ع میں کیے گئے پانی کے معاھدے میں بھی قبول کی گئی ہے. وہ معاہدہ سراسر پنجاب کے فائدے میں ہے، لیکن اس پر بھی عمل نہیں کیا جاتا. کيوں کہ پنجاب کو اور زیادہ پانی چاہیے.

دنیا دریاؤں کے درمیان لنک کینالوں کو رد کر رہی ہے. لیکن چشما جہلم لنک کئنال، تونسہ پنجند لنک کینال وغیرہ نکال کر سندھو دریا کا پانی پنجاب اپنے دریاؤں میں بہا رہا ہے. یہ چوری بھی ہے اور سینا زوری بھی ہے. اوپر سے تھل کینال سبحان اللہ!

پانی کے معاملے پر ہمارے دانشوروں اور ٹیکنوکریٹوں نے فنی حوالے سے بہت کام کیا ہے. جس کے نتیجے میں پنجاب اور وفاق لاجواب ہو گئے ہیں. لیکن میں اس وقت یہاں ٹیکنیکل باتیں چھیڑنا نہیں چاہتا.

اب چالاکی کر کے یہ معاملہ عدالت میں لایا گیا ہے. وہ بھی اس موقعے پر، جب ۲۰۱۸ع کے عام انتخابات ہو رہے ہیں. ظاہر ہے عوام اور سیاستدان الیکشن میں مصروف ہوں گے اور کوئی بھی اس معاملے کو بڑے پئمانے پر اٹھا نہیں سکے گا. اس سازش کے تحت اس وقت یہ معاملہ آپ کی کورٹ میں لایا گیا ہے. جس کے پیچھے بدنیتی کا زہر گھلا ہوا ہے.

جناب والا! آپ ثالثی کرنا چاہتے ہیں. لیکن یہاں ثالثی کی ضرورت نہیں ہے، انصاف کی ضرورت ہے. کیا ہم آپ سے انصاف کی امید رکھیں!؟ انصاف یہ ہے کہ آپ کہہ دیتے کہ کالاباغ ڈیم کے لیے عدالت میں کسی درخواست کی ضرورت نہیں ہے. سپریم کورٹ پارلیامینٹ میں رد کیا گیا کوئی بھی منصوبه شروع کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی.

لیکن فی الوقت جو بات نظر آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ پنجاب کے مفادات کے سلسلے میں جنرل، جج اور بیوروکریٹ محمود و اياز بن کر ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے ہیں.

ليکن سندھ صاف الفاظ ميں کہتی ہے کہ ہميں سندهو ندي پر نہ صرف کالاباغ ڈيم بلکہ کوئی بهی ڈيم نہيں چاهيے. يه ہماری زندگی، ہمارے مستقبل اور ہماری آنے والی نسلوں کا سوال ہے. اس ليے ہم کبهی بهی کسی بهی ڈيم پر رضامند نہيں ہيں.

سچ یہ ہے کہ ہم آپ سے بہت نالاں ہيں، ليکن پهر بهی انصاف کی اميد ضرور رکهتے ہيں.

پنجاب کے ایک مست الست مقرر، آزادی پسند انسان اور انگریز دشمن رہنما سید عطاءُ اللہ شاہ بخاری نے کہا تھا کہ “پاکستان آگے چل کر سیاسی یزیدوں کی آماجگاہ بن جائے گا.”

پانی بند کرنا یزید کا شیوہ ہے. ہم امید کرتے ہیں کہ آپ یزید کے پیروکار بننے کی بجائے اپنے منصب کو حق و انصاف کے لیے استعمال میں لائیں گے.